جنیوا، 5/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہندوستان نے جمعرات کو کہا کہ یہ ایک سیکولر ملک ہے، جس کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے اور اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت اس کے سیاسی نظام کا ایک اہم عنصر ہے۔دراصل، پاکستان نے اقلیتوں کے ساتھ ہندوستان کے رویے پر اس کو تنقید کانشانہ بنایا ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل(یواین ایچ آر سی)کے 27ویں سیشن میں یہاں اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ ہندوستانی آئین میں اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف دفعات ہیں۔کونسل میں ہندوستانی وفد کی قیادت کر رہے روہتگی نے کہا کہ ہندوستان شہریوں کے ذات، نسل، رنگ یا مذہب میں کوئی امتیاز نہیں کرتا۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے جس کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آئین ہر شخص کی مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کا حق ہندوستانی آئین کے اہم حصے میں اپنا واجب مقام رکھتا ہے۔روہتگی نے رکن ممالک سے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی حیثیت سے ہم اظہار رائے کی آزادی حق کی قدر کرتے ہیں، ہمارے شہری اپنی سیاسی آزادی کو لے کر بیدار ہیں اور ہر موقع میں اپنی پسند کا استعمال کرتے ہیں۔غور طلب ہے کہ پاکستانی وفد نے مسئلہ کشمیر کو اٹھایا ہے اور ہندوستانی سیکورٹی فورسز کی طرف سے پیلٹ گن کے استعمال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے ہندوستان سے کونسل کی ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو کشمیر کا دورہ کرنے دینے اور حالات کا جائزہ لینے کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔اس نے اقلیتوں، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دلتوں کے خلاف ہندوستان میں بھیڑ کے تشدد کے مسئلے کو بھی اٹھایا ہے۔روہتگی نے کہاکہ ہم امن، عدم تشدد اور انسانی وقار کو برقرار رکھنے پر یقین رکھتے ہیں، ہماری ثقافت میں تشدد پوری طرح سے نامعلوم چیز ہے اور حکومت میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔افسپا پر انہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ صرف ہنگامہ تشددزدہ علاقوں میں لاگو ہوتا ہے اور یہ علاقے بہت کم ہیں اور کچھ بین الاقوامی سرحدوں کے قریب ہیں۔